99+ Sorry Shayari In Urdu – معافی شاعری

Mend broken bonds with Sorry Shayari in Urdu, filled with verses that express heartfelt apologies and seek forgiveness. These poems are perfect for anyone wishing to convey regret and heal relationships. Share them to spread sincerity and restore trust.

معافی شاعری اردو ادب کی وہ جذباتی صنف ہے جو دل کی گہرائی سے نکلتی ہے، غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرتی ہے اور معافی مانگنے کا خوبصورت انداز سکھاتی ہے۔ جب دل کسی سے کی گئی غلطی پر پشیمان ہوتا ہے یا رشتوں کو جوڑنے کی خواہش رکھتا ہے، تو یہ شاعری جذبات کو الفاظ کا روپ دیتی ہے اور دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ عظیم شاعر اپنے الفاظ سے وہ جادو بُنتے ہیں جو زخمی دلوں کو معافی کی امید دیتے ہیں اور رشتوں کو نئی زندگی بخشتے ہیں۔ اگر آپ بھی کسی سے معافی مانگنا چاہتے ہیں یا اپنے دل کی ندامت کو بیان کرنا چاہتے ہیں، تو یہ معافی شاعری آپ کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کرے گی۔

This Sorry Shayari is perfect for a heartfelt status. Copy-paste these 2-line shers for an SMS text message, image captions, or use as written captions for your Instagram, WhatsApp, or Facebook DP. Add hashtags like #SorryShayari, #UrduPoetry, #MaafiShayari to your bio or latest post, pics, or images. Join a WhatsApp group link for more emotional poetry!

Sorry Poetry In Urdu

رُوٹھنے کا حق ہے تجھے، پر وجہ تو بتا،
خطا ہوئی ہے ہم سے، بس معافی مانگتا ہوں سدا۔
میری ہر خوشی تیری، تیرا ہر غم میرا ہے،
معاف کر دے جان، نہ توڑیں گے دل دوبارہ تیرا۔
خطا ہوئی، مان لیا ہم نے دل سے عہد کیا،
اب نہ کریں گے کچھ جو تجھے برا لگے، یہ وعدہ کیا۔
ناراض کیوں ہوتے ہو، کس بات پر رُوٹھے،
مان لیا ہم جھوٹے، تو سچا ہے، بس معافی دے۔
ہم سے ناراض نہ رہ، یہ پیار کم نہیں،
معافی مانگتے ہیں ہم، دل سے دل تک یہ رشتہ سچ ہے۔
معاف کر دے مجھے، غم دور کر دے،
نہیں دیکھ سکتا تیری آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر۔
تجھے کھونا نہیں چاہتا، یہ احساس جاگا ہے،
ایک اور موقع دے، دل تیری یاد میں کھو گیا ہے۔
یوں نہ رہ خفا، معاف کر دے زرا،
خطا کی ہے ہم نے، پر سزا ایسی نہ دے۔
ہم سے خطا ہوئی، سزا تو سنا دے،
دل کی بات بتا، بس معافی کا موقع دے۔
تو ہنساتا ہے مجھے ہنسانے کے لیے،
رُوٹھ جا ایک بار، مر جائیں گے تجھے ماننے کے لیے۔
خطا ہوئی تو سزا سنا، پر وجہ تو بتا،
تجھے بھول جائیں، یہ خیال دل سے مٹا۔
بھول ہوئی تو بھول سمجھ کر معاف کر دے،
ہمیں بھول نہ دینا، یہ التجا ہے بس یہ کر دے۔
ہم سے خطا ہوئی، تیرا دل دکھایا،
معاف کر دے، دل سے سوری ہم نے کہا۔
لڑائی بس کر، شکوے ختم کر دے،
معاف کر کے مجھے گلے سے لگا لے زرا۔
مجھے گلے لگا، غموں کو دور کر،
خطاؤں کو معاف کر، چہرے کو نور کر۔
سانسوں میں پناہ دے، ایک وجہ جینے کی،
خطا ہوئی ہے ہم سے، ایک موقع اور دے۔
تیری یاد کو دل سے کبھی جُدا نہ کیا،
ناراض کیوں ہو، کبھی خفا تو نہ کیا۔
دل تیری یاد میں ہر پل ترستا ہے،
ایک خطا پر کیا ہر روز مرتا ہے؟
تجھ سے دور رہ کر جینا مشکل ہے،
معافی مانگتا ہوں، بس دل سے دل مل جا۔
چھوٹی باتوں پر نہ رُوٹھ جایا کر،
خطا ہو تو معاف کر، دل سے دل ملایا کر۔
پریشان نہ کر، خطا بتا دے،
معاف کر دے، سزا ایسی نہ سنا۔
کوئی بکھر گیا تیرے رُوٹھ جانے سے،
لوٹ آ زرا، کسی بہانے سے۔
تو میری دعا ہے ہر پل کے لیے،
ناراض نہ ہو، خدا کے واسطے۔
تیرے بغیر چاندنی رات ادھوری ہے،
معاف کر دے، زندگی تیری محبت کی نوری ہے۔
معافی مانگ کر دل سے وعدہ کیا،
تجھے دکھ دینے کا اب ارادہ نہیں کیا۔
ہمیں مانا لے، بس ایک بار بتا،
خطا کیا ہے ہماری، دل سے دل ملا۔
ہم سے خطا ہوئی، تو دل صاف کر دے،
مار بھی ڈال، پر ناراضی دور کر دے۔
تیری ناراضی سے دل پریشان ہے،
مان لے، یہ دل تیرے بغیر نادان ہے۔
سوری کہا، یہ پیار کا اعتراف ہے،
معاف کر کے بتا، تو کتنا خاص ہے۔
خود سے وعدہ کیا، معافی مانگ لوں گا،
ہر پل تیرے ساتھ، اب دکھ نہ دوں گا۔
مانا خطا ہوئی، پر یوں نہ رُوٹھ جا،
ایک نظر دیکھ لے، نہ دو سزا ایسی سدا۔
ماضی کی خطاؤں کو معاف کر دے،
دل سے دل ملے، بس یہ التجا کر دے۔
تیری یاد میں دل ہر پل ترستا ہے،
ایک خطا پر کیا کوئی روز مرتا ہے؟
انجانے میں تجھے رلا دیا ہم نے،
اے خدا، کیسا گناہ کیا ہم نے۔
تیری باتوں کا انتظار دل کو ہے،
ناراض نہ رہ، کوئی شکایت ہی کر دے۔
خطا ہوئی، پر سزا ایسی نہ دے،
معاف کر دے، یہ دل مانگتا ہے زرا سے۔
تیری خاموشی دل کو سزا دیتی ہے،
معاف کر دے، ایک مسکراہٹ دکھا دیتی ہے۔
خطائیں میری، معاف کر دیا کر،
ناراضی سے بہتر، ڈانٹ لیا کر۔
تیرے بغیر یہ دل اُداس ہے،
معاف کر دے، امید تیری پاس ہے۔
میرے دل پر تیرا ہی راج ہے،
ناراض نہ ہو، یہ دل پریشان ہے۔
کچھ نیا کر کے معافی مانگتا ہوں،
تجھ سے دل کی بات کہتا ہوں۔
تو میری دنیا ہے، کبھی نہ بھولوں گا،
معاف کر دے، دل سے دل جوڑوں گا۔
اُداس ہوں، پر تجھ سے خفا نہیں،
تیرے بغیر دل میں کچھ خاص نہیں۔
خفا ہونے سے پہلے خطا بتا دے،
رُوٹھ کر مجھے ایسی سزا نہ سنا دے۔
رُوٹھ کر تو اور بھی حسین لگتی ہے،
بس اسی لیے دل تجھے خفا رکھتا ہے۔
رُوٹھے دل کو ماننا چاہتا ہوں،
ٹوٹے خوابوں کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔
رُوٹھ جا تو، ہمیں ماننے کا بہانہ ملے،
بس یاد کر کے دل سے دل کا رشتہ جڑے۔
خطا ہوئی تو معاف کر دیا کر،
دل سے بھولنا ہمیں، یہ دل نہ چھوڑنا کبھی۔
جھگڑا تب ہوتا ہے جب پیار ہوتا ہے،
دل میں دکھ تب، جب دل سے دل ملتا ہے۔
دوستی کو جینے کی وجہ مانتا ہوں،
خطا ہوئی، معافی مانگتا ہوں۔
ایک بات کہوں، ناراض نہ ہوا کر،
تیرے بغیر مر سکتا ہوں، جینا مشکل ہے۔
ناراض ہو، پر دوستی نہ ٹوٹے گی،
یہ دل جانتا ہے، محبت سچ ہوتی ہے۔
جھگڑا ہمارا، کوئی تیسرے کی بات نہ ہو،
معاف کر دے، دل سے دل کی رات نہ ہو۔
ناراضی سے دل خالی سا لگتا ہے،
معاف کر دے، یہ رشتہ سچا ہے۔
تیری خاموشی راتوں کو بےچین کرتی ہے،
معاف کر دے، یہ دل تیری یاد میں روتی ہے۔
تیرے بغیر دل میں اندھیرا سا ہے،
معاف کر دے، زندگی کو پھر سے روشن کر دے۔
خطا ہوئی، سزا سنا، پر وجہ بتا،
تجھے بھول جائیں، یہ خیال دل سے مٹا۔
محبت تیری تھی، یا بس عادت تھی،
ناراضی نہ رکھ، دل سے دل کی بات تھی۔
تیری یاد میں خوابوں میں ملتا ہوں،
خفا نہ ہو، دل سے دل کو جوڑتا ہوں۔
تیری فکر دل میں، کوئی شک نہیں،
ناراض نہ رہ، یہ دل تیرا ہی ہے۔
مانانے کی کوشش ناکام ہوئی،
تیری ناراضی نے دل کو رلا دیا۔
پہلا پیار تو بس تیرا ہی ہے،
نہ بھول سکتا ہوں، نہ پا سکتا ہوں۔
تیرے بغیر ہر پل صدیوں سا لگتا ہے،
رُوٹھ نہ جا، یہ دل ادھورا سا رہتا ہے۔
تیرے بغیر ہر لمحہ سزا سا ہے،
ناراضی دور کر، دل کا کوئی آسرا ہے۔
ہر بار سوری وہی کہتا ہے،
جو تجھے کبھی کھونا نہیں چاہتا ہے۔
حقیقت نہ سہی، خواب بن کر مل،
بھٹکے مسافر کو چاندنی بن کر مل۔
تیری یاد کو دل سے کبھی جُدا نہ کیا،
ناراض کیوں ہو، کبھی خفا تو نہ کیا۔
تیری تصویر کو سینے سے لگاتا ہوں،
ناراضی کے غم کو آنسوؤں سے مٹاتا ہوں۔
معاف کر دے، تیری آنکھیں نہ روئیں،
تیرا غم دیکھ کر دل میرا بھی کھوئیں۔
تیری ناراضی سے دل بےرنگ ہو گیا،
معاف کر دے، یہ زندگی کا رنگ لوٹا۔
خطا سے غم بڑھا، ناراضی نے ستا دیا،
معاف کر دے، دل کو پھر سے جگا دیا۔
تیرے بغیر دل کہیں لگتا نہیں،
معافی مانگتا ہوں، دل سے دل ملتا نہیں۔
دنیا رُوٹھے، پر تیری خاموشی نہ سہی،
دل کو تیری ناراضی بہت دکھ دیتی ہے۔
محبت کبھی ختم نہیں ہوتی سچ،
ناراضی رکھ کر دل کو نہ توڑ زرا۔
خطا میری، دل نے مان لیا،
معافی دے، یہ دل تیرے بغیر خالی ہے۔
تو میری دھڑکن، تو میرا سکون ہے،
ناراضی دور کر، یہ دل تیرا جُنون ہے۔
سچ مانتا ہوں، خطا میری تھی،
تیری ناراضی نے دل کی دھڑکن روکی ہے۔
بکھرا ہوں میں، تیری ناراضی سے،
آنسوؤں نے دل کو آنکھوں سے جوڑا ہے۔
تیرے بغیر زخم دل کے نہ بھریں،
معاف کر دے، یہ دل تیرے بغیر ادھورا ہے۔
خطا میری، تیرا دل ٹوٹا ہے،
معاف کر دے، میرا دل بھی روتا ہے۔
ناراض نہ ہو، دل کو دکھایا ہے،
معاف کر دے، تجھے ہم نے رلایا ہے۔
تیرے بغیر وقت رُک سا گیا ہے،
معاف کر دے، یہ دل بےجان ہو گیا ہے۔
تیری ناراضی نے دل کو چھو لیا،
خطا میری، پر دل اب بھی تیرا ہے۔
معافی مانگنا میرا فرض بن گیا،
تیرے بغیر یہ دل بےقرار بن گیا۔
ناراض نہ ہو، جینا مشکل ہے،
تیرے بغیر مرنا آسان، پر دل بےدل ہے۔
جھگڑا ہوا تو پیار کا رنگ ہے،
معاف کر دے، یہ دل تیرا سنگ ہے۔
تیرے بغیر راتیں سوتی ہیں،
معاف کر دے، تو ہی زندگی کی روشنی ہے۔
دل سے اگر کی غلطی، معافی مانگتا ہوں،
تیری ناراضی سے دل، اب شرمندہ ہوں۔
تیری خاموشی دل کو سزا دیتی ہے،
میری ندامت اب معافی مانگتی ہے۔
جو زخم دیا، وہ دل میں بسا ہے،
معافی کا لمحہ اب میری دعا ہے۔
تیری ناراضی نے دل کو جھنجھوڑ دیا،
معافی مانگ کر رشتہ جوڑتا ہوں
غلطی ہوئی، دل سے دل ٹوٹ گیا،
معافی مانگتا ہوں، جو رشتہ چھوٹ گیا۔
غلطی کی سزا دل کی بےقراری ہے،
معافی مانگتا ہوں، تیری خوشی میری ساری ہے۔
دل سے دل کی بات چھپائی نہ گئی،
غلطی میری تھی، معافی مانگتا ہوں بھئی۔
تیری خاموشی دل کو چھیدتی ہے،
معافی مانگتا ہوں، یہ ندامت سچ ہے۔
دل سے اگر بھول ہوئی، معافی مانگوں گا،
تیری مسکراہٹ کے لیے سب کچھ چھوڑوں گا۔
غلطی ہوئی جو دل کو تکلیف دی،
معافی مانگتا ہوں، یہ ندامت سچی۔
تیری آنکھوں میں جو اشک چھپا ہے،
معافی مانگتا ہوں، وہ میرا گناہ ہے۔